Islamica Community Forums

Go Back   Islamica Community Forums > Discussion Topics > Culture & Society

Culture & Society Come here to talk about fobs, Canadians, hillbillies and whoever else lives in your neighborhood.

Reply
 
LinkBack Thread Tools
  #241 (permalink)  
Old 09-08-2008, 12:39 PM
LEGALEAGLE's Avatar
LEGALEAGLE Offline
Stop being two-faced
 

Join Date: Nov 2005
Age: 34
Posts: 7,048
LEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond reputeLEGALEAGLE has a reputation beyond repute
Default Re: The Urdu Thread

Quote:
Originally Posted by ShahRukh View Post
Abay Ghalib ki aulaad, bak bak bund ker yaar...


Quote:
Originally Posted by Abu_Hind View Post
No No, I think you misunderstood me. I'm not talking about "sabaq" (i.e. lesson). I'm talking about "sabqat". Seen baay qaaf taay. It means to gain mastery over something.
*gets out notebook to write this new word down*

Quote:
Originally Posted by Abu_Hind View Post
خدا کی معرفت اور اس پر ایمان

Khudaa kee marfat aur uss pe eemaan.

What font are you using because that's fairly easy on on the eye
__________________
Originally Posted by Chisti

I have decided to stay away from discussing religion on forums with anyone and everyone ... it is better for me at least to discuss issues I have with scholars.

http://www.islamicaweb.com/forums/ne...tml#post238443
Reply With Quote
  #242 (permalink)  
Old 09-08-2008, 01:15 PM
sally Offline
___________
 

Join Date: Mar 2002
Posts: 22,947
sally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond reputesally has a reputation beyond repute
Default Re: The Urdu Thread

mA some of you guys are quite well versed in urdu. i'm impressed. keep on posting, it's helping me brush up on my relatively meager skills.
Reply With Quote
  #243 (permalink)  
Old 09-08-2008, 05:20 PM
bluey's Avatar
bluey Offline
Sabrun Jameel
 

Join Date: Dec 2004
Location: Dubai, U.A.E
Posts: 5,608
bluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond reputebluey has a reputation beyond repute
Send a message via AIM to bluey Send a message via MSN to bluey
Default Re: The Urdu Thread

Quote:
Originally Posted by Abu_Hind
No No, I think you misunderstood me. I'm not talking about "sabaq" (i.e. lesson). I'm talking about "sabqat". Seen baay qaaf taay. It means to gain mastery over something.
Quote:
Originally Posted by Leagleagle
*gets out notebook to write this new word down*
Lol, Yeah, I thought I was the only one who'd heard this word the first time.

Quote:
ShahRukh Khan bhi kabhi lame hosakta hai? Ye tu akal ke baat hi nahi.

SRK tu bollywood ka badshah hai...usko lame karar deyna na tu sirf adaab-e-urdu thread ki khilaf-warzi hai, balkey puray hindustan/pakistan mein uskay chahnein waloon ki shaan mein gustakhi hai
I don't think SRK is all that either. [Looks like someone is a die-hard SRK fan]
__________________
The Prophet Sallalahu alayhi wasallam said,

“There is no Muslim who forsakes a Muslim in a situation where his reputation and honor are violated except that Allah will forsake him in a situation where he would want His help, and there is no Muslim who helps a Muslim in a situation where his reputation and honor are being violated except that Allah will help him in a situation where he would want His help.”
[Abu Dawud]


Free Muslim Prisoners.
Reply With Quote
  #244 (permalink)  
Old 09-08-2008, 06:38 PM
Abu_Hind Offline
Senior Member
 

Join Date: Apr 2006
Posts: 2,299
Abu_Hind has disabled reputation
Default Re: The Urdu Thread

Quote:
Originally Posted by LEGALEAGLE View Post

What font are you using because that's fairly easy on on the eye
I copied and pasted it from a website, they've got some really nice stuff. I'll post more insha Allah.
Reply With Quote
  #245 (permalink)  
Old 09-09-2008, 01:37 AM
Abu_Hind Offline
Senior Member
 

Join Date: Apr 2006
Posts: 2,299
Abu_Hind has disabled reputation
Default Re: The Urdu Thread



روزہ اور بندگی کے معانی





رمضان کا نام آتے ہی کچھ خاص کیفیات ذہن میں تازہ ہوجاتی ہیں۔ مانوس قسم کے محسوسات اور معمولات انسان کے سامنے آتے ہیں اور آدمی ایک خاص ذہنی اور شعوری فضا میں چلا جاتا ہے۔

یہ خاص ذہنی کیفیت، یہ محسوسات، یہ معمولات اور یہ خاص ذہنی اور شعوری فضا جو رمضان کے نام سے ذہن میں آتی ہے البتہ ہر شخص کیلئے ایک اپنا الگ مفہوم رکھتی ہے۔ کچھ لوگوں کیلئے یہ ایک روٹین کانام ہے۔ کچھ کیلئے رمضان افطاریوں اور دعوتوں اورملاقاتوں اور پروگراموں کا نام ہے۔ کچھ کیلئے ایک لگے بندھے افعال کا مجموعہ ہے۔ ہر بار آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ کچھ کیلئے البتہ یہ قلب اور شعور کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے۔ غرض آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص اپنے ’رمضان‘ کا مفہوم آپ ہی متعین کرتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ ہر شخص کا اپنا ’رمضان‘ ہے اور اس بات کا انحصار دراصل اس بات پر ہے کہ کوئی شخص رمضان میں خود کیا اور کیسا ہوتا ہے۔

بہرحال ہر کوئی ’اپنے‘ رمضان کا منتظر ہے اور رمضان اب دنوں میں آیا چاہتا ہے۔ ہر کسی کو یہ بہت مختصر لگے گا اور اس کے گزر جانے کا پتہ تک نہ چلے گا۔ البتہ اصل سوال یہی رہے گا کہ کوئی اس سے کیا پاتا ہے؟

جب ایسا ہے تو پھر ان ’گنتی کے چند دنوں‘ کی بابت اپنا مفہوم اور اپنی توقعات درست کر لینا اور اگر پہلے سے درست ہیں تو انکو ایک بار ازسرنو متعین کرلیناایک بہت ضروری عمل بن جاتا ہے۔ آپ رمضان سے کیا پاتے ہیں، اس کا انحصار اگر اُس کے دینے پرنہیں بلکہ آپ کے لینے پر ہے تو پھر آپ کو اپنی طلب کا تعین کرنے پر ضرور کچھ محنت کرلینی چاہیے۔

یوں بھی اس دُنیا میں کیا نہیں ملتا۔ سوال تو یہ ہے کہ آپ کو یہاں سے کیا چاہیے؟ بہت سے لوگ بس اسی سوال کا تعین نہیں کرپاتے اور بس اس سبب سے ان کیلئے زندگی بے معنی ہوجاتی ہے۔ تب وہ اس زندگی سے اس چیز کی امید لگا لیتے ہیں جس کا دے دینا اس زندگی کے بس کی بات نہیں۔ ’آنکھ‘ کھلتی ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے!

ذوق طلب کا پیدا ہو جانا اس لحاظ سے انسانوں کا ایک بہت ہی بنیادی اور حقیقی مسئلہ ہے!

رمضان سے آپ کیا پانا چاہیں گے؟ رمضان کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس کا آپ کے پاس جو جواب ہے رمضان آپ کو قریب قریب وہی کچھ یا اسی قبیل سے کچھ دے کر جانے والا ہے۔ کسی عمل میں نیت اور قصد کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آپ کا یہ تعین نہ کر سکنا کہ آپ کو ایک عمل سے کیا برآمد کرنا ہے، آپ کی پہلی ناکامی ہے بے شک ’عمل‘ کر لینے میں آپ کامیاب ہو بھی جائیں۔ ایک ’ناکام‘ عمل کرنے میں کامیاب ہونا اصل ناکامی ہے۔ کامیاب عمل وہ ہے جو آپ کا وہ مقصد پورا کرے جو اس عمل سے آپ کے پیش نظر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ آپ کی ناکامی ہے۔ اس کا الزام ’عمل‘ کو نہیں جاتا۔

انما الاعمال بالنیات وانما لکل امریء مانوی

”عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہر آدمی کے حصہ میں وہی کچھ آئے گا جو (عمل سے) دراصل اس کی منشا ومراد تھی“۔

بھائیو اور بہنو! آئیے رمضان شروع ہونے سے پہلے اپنے مقصود او رمطلوب کا تعین کرلیں۔ یہ بھی احضار نیت ہی کا دراصل ایک پہلو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رمضان کی خوش بو فضا یوں تو کئی ایک پہلو سے عبارت ہے۔ روزہ، قیام، تہجد، مستغفرین بالاسحار، دُعا، قرآن، سجود، افطار، آخری عشرہ، طاق راتیں، لیلہ القدر، اعتکاف، مساجد کی آبادی، راتوں کی مناجات، تاریک گوشوں کی سرگوشی، صدقہ الفطر، عید، عبادت گزاروں کی خوش لباسی، سجدے کرنے والوں کی خندہ روئی، موحدین کی تکبیر اور تہلیل، اجر کیلئے پر امیدی .... یہ سب کچھ اس پرلطف موسم کاحصہ ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ ان میں سے ہر پہلو پر ہی ہم کچھ بات کریں مگر اس بار ہم صرف ’روزہ‘ پر ہی کچھ گفتگو کر سکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزہ صبر کی ایک خاص کیفیت کانام ہے۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس پر صبر کا ایک خاص اطلاق ہوتا ہے۔ رکے رہنا، برداشت کرنا، ڈٹ جانا، منتظر ہونا، کمال انداز میں سہہ جانا .... جس کے پیچھے ایک عظیم ہستی کی چاہت ہو اور جس کی پشت پر کوئی اعلیٰ مقصد کارفرما ہو، صبر کہلاتا ہے۔ روزہ صبر ہی کی ایک صورت ہے یہاں تک کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ رمضان کا ذکر ہی شھر الصبر (صبر کا مہینہ) کے نام سے کرتے ہیں۔ [دیکھیے مسند احمد حدیث ١٩٤٣٥، حدیث ١٩٨١١، سنن النسائی حدیث ٢٣٦٦، ابن ماجہ حدیث ١٧٣١، ابوداؤد٢٠٧٣] چنانچہ روزہ اور صبر قریب قریب ہم معنی ہوجاتے ہیں۔

اور جہاں تک صبر کی بات ہے تو وہ عبادت کی ایک بہترین صورت ہے کسی نے ’بندگی‘ کی تعریف یہ کی ہے کہ ”نفس انسانی کا معبود برحق کی طلب میں زندگی زندگی یوں چاہت اور رغبت اور دلجمعی سے بڑھتے جانا کہ ایک قدم صبر ہو تو ایک قدم شکر“۔ پس آدمی کو چاہیے کہ عبادت کے ہر عمل میں بندگی کی اسی کیفیت کو ٹٹولتا رہے۔

صبر کی دو صورتیں ہیں۔ اضطراری اور اختیاری۔ روزہ کا شمار دوسری صنف میں ہوتا ہے۔

اضطراری صبر جانور بھی کرتے ہیں۔ کافر بھی کر لیتے ہیں۔ یعنی جہاں آدمی کا بس ہی نہ چلے وہاں صبر۔ یہ عبادت نہیں مجبوری ہے۔ صبر جو عبادت ہے وہ ایک اختیاری فعل ہے۔ جہاں آدمی کا بس نہ چلے وہاں بھی دِل سے راضی ہونا اور مالک کی خوشی کو اپنی خوشی جاننا آدمی کا بہرحال اپنا اختیار ہے۔ پس صبر جہاں ایک جانور یا ایک کافر کیلئے مجبوری کی ایک صورت ہو مومن کیلئے وہاں بھی وہ ایک مجبوری نہیں رہتا بلکہ اختیاری فعل بن جاتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے اس فعل سے مالک کو خوش کرتا ہے۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی کواپنی حدود اور خدا کے اختیارات معلوم ہوں۔ قدرتی اضطراری امور میں کچھ کر سکنا تو کافر کا بس ہے اور نہ مومن کا۔ دونوں اس معنی میں صبر کرتے ہیں۔ مگر کافر کا صبر کوئی بہادری نہیں۔ البتہ مومن اپنے مالک سے اس پر خوب خوب داد پاتا ہے۔ توحید کا سراغ پا لینے سے انسان میں دراصل یہی فرق آجاتا ہے۔

رہ گئی صبر کی اختیاری صورت، یعنی جہاں انسان کا بس چلتا ہو اور کچھ کرنے یانہ کرنے پر اس کا پورا اِختیار ہو وہاں انسان کا آپ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدا کا محدود اورپابند کر لینا اور اس پابندی کو خوشی سے قبول کرنا اور پورے اعتماد سے سہہ جانا اور یہ کرکے اس ذات کبریائی کی نگاہ میں جچ جانا۔ تو یہ صبر کی ایک اعلیٰ اور برگزیدہ صورت ہے۔

صبر کا یہ مفہوم اگر واضح ہو جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ صبر دراصل عبادت اور بندگی کا ہی دوسرا نام ہے۔ پس صبر عبادت ہے اور عبادت صبر۔

فاعبدہ واصطبر لعبادتہ (مریم: ٦٥)

”پس تم اس کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی میںصبر وثابت قدمی اختیار کرو“۔

یہ ایک ادا ہے جس کا بدلہ حساب رکھے بغیر دیا جاتا ہے:

انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب (الزمر: ١٠)

”یہ صبر کرنے والے ہی ہیں جو اپنا اجر بلا حساب پائیں گے“۔

کل عمل ابن آدم یضاعف: الحسنہ عشر امثالھا الی سبع مائہ ضعف، قال اللّٰہ عزوجل: الا الصوم، فانہ لی وانا اجزی بہ، یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی .... [صحیح بخاری کتاب الصیام، باب فضل الصیام، حدیث ١٩٤٥]

”آدم کا بیٹا اپنے ہر عمل کا کئی کئی گنا پاتا ہے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک جا پہنچتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے: سوائے البتہ روزے کے۔ یہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی بس میرے ہی دینے کا ہے۔ بندہ اپنی لذت و مزہ اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑ لیتا ہے“۔

یوں بندگی صبر اور صلوت سے عبارت ہے۔ سورہ البقرہ جس میں پانچوں ارکان اسلام کا خوب خوب ذکر ہے اور اس انداز کی جامعیت رکھنے میں قرآن کی یہ ایک منفرد ترین سورت ہے، صبر اور صلوت کا دوبار اکٹھا ذکر کرتی ہے:

واستعینوا بالصبر والصلوہ وانھا لکبیرہ الا علی الخاشعین الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون (البقرہ: ٤٥، ٤٦)

”اور صبر اور نماز کے۔ ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ضرور ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے“۔

یا ایہا الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصلوہ ان اللّٰہ مع الصابرین (البقرہ: ١٥٢)

”اے ایمان والو! صبر (ثابت قدمی) اور نمازکے ذریعے مدد چاہو۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

چنانچہ صبر اختیاری کی ایک بہترین صورت روزہ ہے۔ بلکہ روزہ صبر اختیاری کی ایک بہترین مشق بھی ہے۔ سب کچھ انسان کے پاس ہے۔ نفس میں اس کی طلب بھی خوب ہے۔ ضرورت بھی ہے۔ مگر انسان آپ ہی اپنے اختیار سے اور خدا کی محبت میں اس سے یوں پرہیز کئے ہوئے ہے گویا یہ کوئی فرشتہ ہے۔ کیونکہ یہ بندگی کے ایک خاص مفہوم کا مجسم عکس بننا چاہتا ہے اور بھوک پیاس کی اسی کیفیت میں خوشی خوشی دن پار کر دیتا ہے۔ مگر اس کا یہ فعل رزق سے بے رغبتی نہیں بلکہ رازق سے اپنی رغبت بنانے کا ایک طریقہ ہے اور ایک مشروع طریقہ ہے۔ رزق سے بے رغبتی ہوتی تو یہ صبح پو پھٹنے سے بھی پہلے اٹھ بیٹھنے کا روادار نہ ہوتا اور رات کے اس آخری پہر میں خدا کا رزق کھانا اور اس پر اس کا شکر کرنا یہ اپنے حق میں باعث برکت نہ جانتا (تسحروا فان فی السحور برکہ) اور نہ سورج چھپتے ہی ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر خدا کا نام لے کر خدا کا رزق کھانے اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اس کو حکم ہوتا۔

یہ رزق سے بے اعتنائی نہیں ہے۔ یہ کوئی منفی رویہ نہیں۔ یہ دراصل رازق کی طمع اور چاہت ہے۔ یہ کھانے پینے سے بے نیازی نہیں بلکہ کھلانے والے کو کھانے پر ترجیح دینے کا ایک اظہار ہے۔ کھانا پینا اگر ایک زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے تو رازق کو رزق پر مقدم جاننا بھی پھر زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہونا چاہیے اور عمل سے ہی ثابت کر دی جانے والی بات۔ رازق کو رزق پر ترجیح دینے کی ایک عملی صورت اگر زکوٰت اور صدقہ ایسی مالی قربانی ہے تو اس کی ایک دوسری صورت روزہ رکھ کر.... طویل ساعتیں آپ اپنی مرضی سے بھوکا اور پیاسا رہ کر مالک کیلئے اپنے لطف اور لذت کی قربانی ہے۔

ان سب جہتوں سے انسان اپنے آپ کو رضاکارانہ خدا کا پابند کرتا ہے اور اپنی بندگی کا یہ پیغام دے کر اس سے اس کے فضل کا خواستگار ہوتا ہے حالانکہ یہ پابندی اختیار نہ کرنے کی اس کو زندگی زندگی پوری آزادی ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ صبر اختیاری کی ایک کامل ترین عکاسی ہے اور صبر اختیاری کی ایک زبردست مشق۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکر ایک دوسری بڑی عبادت ہے۔ دیکھا جائے تو بندوں کے ہاں پایا جانے والا یہ ایک نادر ترین عمل ہے۔ انسان صبرکر لینے پر تیار ہو جاتا ہے مگر شکر کی جانب بہت کم متوجہ ہوتا ہے۔ کہنے کو صبر مشکل ہے اور شکر آسان مگر عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے۔

شکر بنیادی طور پر نعمت کی قدردانی ہے اور منعم کی احسان مندی۔ نعمت سے انسان کی لطف اندوزی عموماً اس کو نعمت کی قدردانی اور منعم کی احسان مندی کی جانب متوجہ نہیں ہونے دیتی۔ اس کی نوبت عموماً تب آتی ہے جب وہ نعمت ہی سرے سے جاتی رہے۔ مگر یہ صبر کا موقعہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ میں اور ان نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت میںجو آپ کو حاصل ہیں محض ایک وقتی فاصلہ آجائے تو آپ نعمتوں کی قدر بھی کر لیتے ہیں اورمنعم کے فضل کا اعتراف بھی خوب کرتے ہیں جبکہ اس نعمت سے بھی آپ عملی طور پر محروم نہیں ہوئے ہوتے۔ ایک چیز آپ کے پاس بھی رہی اور آپ اسے کھو کر دوبارہ پا لینے کی کیفیت سے بھی گزر گئے۔

اس لحاظ سے روزہ صبر ہی نہیں روزہ شکر بھی ہے۔ آپ کی یہ بھوک اور پیاس جو آپ نے خود اپنی مرضی سے مالک کی خاطر اختیار کی اس کے شکر واحسان مندی کی بھی یاد دہانی بن جاتی ہے۔کسی نعمت کے یاد آنے کیلئے اس سے کچھ فاصلہ ہو جانا بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔ روزہ اس بات کا ایک قدرتی انتظام ہے بلکہ اس طرز احساس کی ایک زبردست مشق بھی۔ آپ کا روزہ رکھنا اگر ایک مشینی عمل نہیں تو کچھ گھنٹوںکی بھوک اور پیاس آپ کے حق میں ایک بہت ہی بامعنی چیز ہے۔ یہ آپ کو بار بار کچھ پیغام دیتی ہے اور آپ کو بندگی کے کچھ ایسے نفیس معانی بیان کرکے دیتی ہے جس کا بیان کرنا کسی اور چیزکے بس میں نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Reply With Quote
  #246 (permalink)  
Old 09-09-2008, 01:41 AM
Abu_Hind Offline
Senior Member
 

Join Date: Apr 2006
Posts: 2,299
Abu_Hind has disabled reputation
Default Re: The Urdu Thread


تیسری چیز فقر ہے۔

یاایہا الناس انتم الفقراءالی اللّٰہ واللّٰہ ھو الغنی الحمید (فاطر: ١٥)

”لوگو! تم ہی خدا کے محتاج ہو، خدا ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف خدا کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں خدا کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ خدا کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی خدا کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو یہ اپنی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحہء حاضر کا اسیر جاہل محظ ہے ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل خدا کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ خدا کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف خدا کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل خدا کے غنی مطلق اور لائق حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رواں رواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنی مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دست سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہء افتخار ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

چنانچہ روزہ اس صفت بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے ___ اور بھوک بندے کی صفت ہے ___ جب تک کہ خدا اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! خدا کی تسبیح، خدا کی بندگی، خدا کی حمد اور خدا کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔ اس لئے کہ وہ آپ اپنی ذات میں قابل ستائش ہے اور لائق حمد اور یہ آپ اپنی ذات میں احسان مند اور اُس کا ثنا خوان! وہ دے تو اُس کے دینے پر اُس کی تعریف وہ کبھی کسی وقت نہ بھی دے تو اُس کی حکمت پر پیشگی اعتماد اور اُس کی دانائی پر اُس کی تعریف اور اُس کے فیصلے پر کامل اطمینان اور اِس سے بھی بہتر صلہ پانے کی اُس سے امید اور آس۔ وہ دے کر کھانے سے روک دے تب بھی اُسی کی تعریف اور اُس کا حکم بسروچشم! لہ الحمد فی الاولی والاخرہ ولہ الحکم والیہ ترجعون۔

پس یہ ایک غیر مشروط بندگی ہے۔ ہر حال میں خدا کی تعریف اور خدا کی احسان مندی ہے اور خدا کی طلب میں سچا ہونے کی ایک عاجزانہ مگر ایک عملی تعبیر۔

روزہ اگر میکانکی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری عمل ہے اور ایمان اور احتساب کا پیدا کردہ ہے تو انسان کی بھوک اور پیاس ان سب احساسات کی ایک خاموش مگر خوبصورت زبان بن جاتی ہے۔ انسان سارا دن ان احساسات کو پالتا اور بڑھاتا ہے اور اسی کیفیت میں صبح سے شام کر لیتا ہے۔ یوں ایک مہینہ وہ یوں گزارتا ہے کہ صبح چڑھتے ہی ایمان کا یہ سبق بیک وقت شعور اور عمل کی زبان میں یاد کرنے لگتا ہے اور شام ڈھلنے تک اسی سبق کو یاد کئے چلا جاتا ہے۔ یہ سبق ایک بار ذہن نشین ہوجائے تو بھوک اور پیاس میں خدا نے کچھ ایسی خاصیت رکھی ہے کہ یہ خود ہی اس سبق کی یاددہانی بنتی ہے۔ یہ ایک قدرتی انتظام ہے کہ دن کا زیادہ سے زیادہ حصہ انسان اس سبق کے یاد کرنے میں گزارے۔ جیسے جیسے بھوک پیاس میں شدت آتی ہے ویسے ویسے ہی یہ سبق یاد ہونے لگتا ہے اور اسی نسبت سے ایمان کی یہ غذا اس کی روح میں اترتی ہے۔ جس شخص کی بھوک اور پیاس کو ایسی خوبصورت زبان مل جائے اور وہ اس کیلئے اتنے سارے پیغام نشر کرے وہ مالک کی نگاہ میں بھلا کیوں نہ جچے گا۔ اب حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے منہ کی ناخوشگوار بو خدا کے ہاں مشک کی خوشبو سے بڑھ جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ہمارے پاس تین چیزیں ہو گئیں جو اس عبادت .... روزہ کی تہہ میں کام کرتی ہیں: صبر، شکر اور فقر۔ چوتھا عنصر اس میں ایک اور شامل ہونا ہے اور وہ ہے ذکر۔

آدمی ایمان کا مفہوم نہ جان پایا ہو تو ’ذکر‘ اس &